کتنے پردے اٹھائیں گے ہم

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 87
کیا زیست کا راز پائیں گے ہم
کتنے پردے اٹھائیں گے ہم
ایک اپنی وفا کی روشنی سے
کس کس کا دیا جلائیں گے ہم
ہر رنگ جہاں سے ہٹ کے دیکھو
اس طرح نظر نہ آئیں گے ہم
یوں نکلے ہیں تیری جستجو میں
جیسے تجھے ڈھونڈ لائیں گے ہم
انداز جہاں کے دیکھتے ہیں
اپنی بھی خبر نہ پائیں گے ہم
اک بات نہ اٹھ سکے جہاں کی
کیا بار حیات اٹھائیں گے ہم
آغاز سفر میں کیا خبر تھی
یوں راہ میں بیٹھ جائیں گے ہم
جو دل پہ گزر رہی ہے باقیؔ
تجھ کو بھی نہ اب بتائیں گے ہم
باقی صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s