چپ نہ ہوتے تھے مگر چپ ہو گئے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 194
تار دل کے ٹوٹ کر چپ ہو گئے
چپ نہ ہوتے تھے مگر چپ ہو گئے
سوچ کر آئے تھے ہم کیا کیا مگر
رنگ محفل دیکھ کر چپ ہو گئے
کیا کبھی اس کا بھی آیا ہے خیال
کیوں ترے شوریدہ سر چپ ہو گئے
کہہ رہے تھے جانے کیا لوگوں سے وہ
مجھ کو آتا دیکھ کر چپ ہو گئے
میں نہیں گویا کسی کا ترجمان
ہمنوا یوں وقت پر چپ ہو گئے
اک اداسی بزم پر چھا جائے گی
ہم بھی اے باقیؔ اگر چپ ہو گئے
باقی صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s