چل کے دو چار قدم دیکھتے ہیں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 128
آپ ہیں دور کہ ہم دیکھتے ہیں
چل کے دو چار قدم دیکھتے ہیں
اپنی آواز پہ رحم آتا ہے
اس بلندی پہ ستم دیکھتے ہیں
ہم سفر کیسے کہ ہم مڑ مڑ کے
اپنے ہی نقش قدم دیکھتے ہیں
زلزلہ کوئی ادھر سے گزرا
تیری دیوار میں خم دیکھتے ہیں
قافلے شوق حرم سے گزرے
اوج پر بخت صنم دیکھتے ہیں
زندگی جنتی بلند اڑتی ہے
درد ہم اتنا ہی کم دیکھتے ہیں
جب کسی غم کا سوال آتا ہے
صورت اہل کرم دیکھتے ہیں
ریگ ساحل ہے مقدر اپنا
کیا ہر اک موج میں ہم دیکھتے ہیں
کتنا خوں اپنا جلا کر باقیؔ
صورت نان و درم دیکھتے ہیں
باقی صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s