نیند نہ آئی ساری رات

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 6
یاد آئی کیا تیری بات
نیند نہ آئی ساری رات
تم بھی واپس لا نہ سکو
اتنی دور گئی ہے بات
میرے غم میں ڈوب گئی
انگڑائی لے کر برسات
رسوائی کا نام بُرا
جب چھیڑو تازہ ہے بات
دل کو روشن کرتی ہیں
بجھ کر شمعیں بعض اوقات
جب عرض غم کی باقیؔ
ہنس کر ٹال گئے وہ بات
باقی صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s