مگر تجھ سے ہے دنیا بدگماں کیوں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 107
کوئی سمجھے تجھے نا مہرباں کیوں
مگر تجھ سے ہے دنیا بدگماں کیوں
کوئی تو بات ہے اظہار غم میں
وگرنہ لڑکھڑاتی ہے زباں کیوں
ابھرتا ہے یہیں سے ہر تلاطم
بلندی سے خفا ہیں پستیاں کیوں
جو اپنی رہگزر سے آشنا ہو
وہ دیکھے نقش پائے رہرواں کیوں
اداسی منزلوں کی کہہ رہی ہے
ادھر سے کوئی گزرے کارواں کیوں
مسافر کوئی شاید لٹ گیا ہے
چراغ راہ دے اٹھا دھواں کیوں
جہاں تیری نطر ہو کار فرما
وہاں باقیؔ رہے میرا نشاں کیوں
باقی صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s