ملا ہے جو اختیار اس اختیار پر غور کر رہا ہوں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 105
ہجوم رنج و الم میں صبر و قرار پر غور کر رہا ہوں
ملا ہے جو اختیار اس اختیار پر غور کر رہا ہوں
نظر کے سائے ذرا ہٹا لو کہ عقل کی سانس گھٹ رہی ہے
ہٹو ہٹو میں کشاکش روزگار پر غور کر رہا ہوں
بھٹک رہا ہے خیال سود و زیاں کے پر پیچ راستوں میں
کہاں کی منزل ابھی تو گردو غبار پر غور کر رہا ہوں
میں کتنا بیباک ہو گیا ہوں مجھے سزا دو چمن پرستو!
بہار کہتے ہو تم جسے اس بہار پر غور کر رہا ہوں
بدل رہا ہے کچھ اس طرح ان کے عہد و پیماں کا رنگ باقیؔ
کیا تھا کل اعتبار آج اعتبار پر غور کر رہا ہوں
باقی صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s