لے تری بزم سے ہم جاتے ہیں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 125
پی کے تلخابۂ غم جاتے ہیں
لے تری بزم سے ہم جاتے ہیں
جب سے اٹھ آئے تری محفل سے
ہم کہیں اور بھی کم جاتے ہیں
جانے اس راہ میں کیا کھو آئے
روز کچھ ڈھونڈنے ہم جاتے ہیں
ان کے غصے کے نہ تیور بدلے
ورنہ طوفان بھی تھم جاتے ہیں
جب سے ٹوٹا ہے سفینہ باقیؔ
ساتھ ہر موج کے ہم جاتے ہیں
باقی صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s