لے آیا کہاں دل تپیدہ

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 25
اک سانس ہے نوحہ، اک قصیدہ
لے آیا کہاں دل تپیدہ
ہیں لفظ کہ کاغذی شگوفے
ہیں شعر کہ داغ چیدہ چیدہ
ہر بات ہے اک ورق پرانا
ہر فکر ہے اک نیا جریدہ
کچھ مثل خدنگ ہیں ہوا میں
کچھ مثل کماں ہیں سرکشیدہ
گلشن میں ہو کے بھی نہیں ہیں
ہم صورت شاخ نو بریدہ
تکتے ہیں رقص ساغر گل
پیتے ہیں شبنم چکیدہ
اپنی خوشبو ہے طنز ہم پر
ہم گل ہیں مگر صبا گزیدہ
ہر راہ میں گرد بن کے ابھرا
یہ زیست کا آہوئے رمیدہ
دل تک نہ گئی نگاہ اپنی
پردہ بنا دامن دریدہ
یا میری نظر نظر نہیں ہے
یا رنگ حیات ہے پریدہ
اس راہ پہ چل رہے ہیں باقیؔ
جس سے واقف نہ دل نہ دیدہ
باقی صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s