فیصلہ اک نگاہ پر ہے ابھی

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 177
فاصلہ دل کا مختصر ہے ابھی
فیصلہ اک نگاہ پر ہے ابھی
چاند شب کے گلے میں اٹکا ہے
دور ہنگامہ سحر ہے ابھی
سائے قدموں کو روک لیتے ہیں
اک دیوار ہر شجر ہے ابھی
گھر کے اندر نظر نہیں جاتی
راہ میں حسن بام و در ہے ابھی
راستے گونجتے ہیں دل کی طرح
ایک آواز ہم سفر ہے ابھی
راہ بھی گرد، منزلیں بھی گرد
ہر قدم اک نئی خبر ہے ابھی
کچھ تعلق صبا سے ہے باقیؔ
دل کے دامن میں اک شرر ہے ابھی
باقی صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s