غم وہ شعلہ ہے جسے دنیا بجھا سکتی نہیں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 145
وضعداری کیا حقیقت راس آ سکتی نہیں
غم وہ شعلہ ہے جسے دنیا بجھا سکتی نہیں
وہ سہارا دے رہے ہیں میرے احساسات کو
اب محبت دونوں عالم میں سما سکتی نہیں
عقل نے اوہام یوں رستے میں لا کر دکھ دئیے
زندگی دنیا کو اک مرکز پہ لا سکتی نہیں
دل کی آزادی بجا، نظروں کی بیباکی درست
زیست کیوں اس پر بھی کھل کر مسکرا سکتی نہیں
کچھ تو ہو باقیؔ جہاں کی چیرہ دستی کا علاج
زندگی اب اوربارِ غم اٹھا سکتی نہیں
باقی صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s