عم ہستی کوئی غم کھائیں کیا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 67
ان کو دل کا مدعا سمجھائیں کیا
اے غم ہستی کوئی غم کھائیں کیا
شورِ نغمہ اس طرف آتا نہیں
رنگِ محفل بن کے ہم اڑ جائیں کیا
بے نیازی سے ہے قائم شان حسن
ہم انہیں یاد آئیں پر یاد ئیں کیا
جل کے بجھنے کا تو باقیؔ غم نہیں
ہم مگر دنیا کو منہ دکھلائیں کیا
باقی صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s