ستارے جھلملا اٹھے سر شام

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 14
لیا کس نے ابھی سے صبح کا نام
ستارے جھلملا اٹھے سر شام
فسون آرزو ٹوٹے نہ ٹوٹے
ہمارے سامنے ہے دل کا انجام
چلے جائیں گے خالی ہاتھ بھی ہم۔۔
مگر آئے تھے سن کر آپ کا نام
جو ہم بدلے تو کوئی بھی نہ بدلا
جو تم بدلے تو بدلا دور ایام
محبت اور اطوار زمانہ
کیا اپنی وفا کو ہم نے بدنام
تمنا داغ دے جائے نہ باقیؔ
ستارا ایک ٹوٹا ہے سرشام
باقی صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s