ساقی کا خون پی لیں جورندوں کا بس چلے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 215
الٹی بساط میکدہ، جام ہوس چلے
ساقی کا خون پی لیں جورندوں کا بس چلے
ممکن ہے آ ملے کوئی گم گشتہ راہرو
تھوڑی سی دور اور صدائے جرس چلے
کیوں چھا رہی ہے بزم جہاں پر فسردگی
دو دن تو اور ساغر سوز نفس چلے
اے خالق بہار یہ کیسی بہار ہے
ہم اک تبسم گل تر کو ترس چلے
ہر سمت ہیں بہار پہ پہرے لگے ہوئے
باد صبا چلے تو قفس تا قفس چلے
یا اس طرح کسی کو پیام سفر نہ دے
یا ہم کو ساتھ لے کے صدائے جرس چلے
باقیؔ یہ اختلاف یہ نفرت یہ حادثے
ہم تو نہ ہوں جہاں میں جو دنیا کا بس چلے
باقیؔ وہی تپش ہے وہی رنگ و بو کی پیاس
کہنے کو جھوم جھوم کے بادل برس چلے
باقی صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s