زندگی کی ہنسی اڑاتے ہیں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 122
بات پر اپنی ہم جب آتے ہیں
زندگی کی ہنسی اڑاتے ہیں
شب غم کا کوئی سوال نہیں
نیند آئے تو سو بھی جاتے ہیں
جانتے ہیں مآل غم پھر بھی
لوگ کیا کیا فریب کھاتے ہیں
راستہ بھولنا تو ہے اک بات
راہرو خود کو بھول جاتے ہیں
بات کو سوچتے نہیں باقیؔ
لوگ جب داستاں بناتے ہیں
باقی صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s