زندگی کا کوئی انداز تو ہے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 251
نہ سہی ساز غم ساز تو ہے
زندگی کا کوئی انداز تو ہے
کچھ گریزاں ہے صبا ہی ورنہ
بوئے گل مائلِ پرواز تو ہے
بن سکے سرخیٔ روداد حیات
خون دل اتنا پس انداز تو ہے
لب خاموش بھی بول اٹھے ہیں
کچھ نہ کچھ وقت کا اعجاز تو ہے
میری آمد نہ گراں گزری ہو
اس خموشی میں کوئی راز تو ہے
کس توقع پہ صدا دیں باقیؔ
در ارباب کرم باز تو ہے
باقی صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s