زمانے کے مقابل ہو گئے ہم

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 84
ہجوم رنج و غم میں کھو گئے ہم
زمانے کے مقابل ہو گئے ہم
شب تاریک کی زد سے نکل کر
سحر کی ظلمتوں میں کھو گئے ہم
چلو اپنوں نے بھی نظریں بدل لیں
وطن میں بھی مسافر ہو گئے ہم
اسی غفلت نے باقیؔ مار ڈالا
کہ جب تقدیر جاگی سو گئے ہم
باقی صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s