زمانے کی باتیں وہ کب مانتے ہیں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 121
تمہاری نگاہیں جو پہچانتے ہیں
زمانے کی باتیں وہ کب مانتے ہیں
فریب تلاطم نہ دیں ناخدا اب
سفینے کناروں کو پہچانتے ہیں
زمانے کی چالیں زمانہ ہی سمجھے
نہ تم جانتے ہو نہ ہم جانتے ہیں
تعارف کی کوئی ضرورت نہیں ہے
دوانے دوانوں کو پہچانتے ہیں
کرو ضبط غم کی نہ تلقین باقیؔ
جو ہم پر گزرتی ہے ہم جانتے ہیں
باقی صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s