رہزن کی طرح کرتے ہیں ہم لوگ سفر اب

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 73
ہر رہرو اخلاص پہ رہتی ہے نظر اب
رہزن کی طرح کرتے ہیں ہم لوگ سفر اب
پھولوں میں چھپا بیٹھا ہوں اک زخم کی صورت
کھا جاتی ہے دھوکا مری اپنی بھی نظر اب
اس طرح اٹھا دہ سے یقیں اہل جہاں کا
افواہ نظر آتی ہے سچی بھی خبر اب
جو پرسش غم کے لئے آ جائے غنیمت
کشکول کی مانند کھلا رہتا ہے در اب
نظروں میں ابھر آتا ہے ہر ڈوبتا تارا
اس طرح گزرتی ہے مرے دل سے سحر اب
دنیا کو ہے اب کانچ کے ٹکڑوں کی ضرورت
کس کے لئے دریا سے نکالو گے گہر اب
منزل سے بہت دور نکل آیا ہوں باقیؔ
بھٹکا ہوا رہرو ہی کوئی آئے ادھر اب
باقی صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s