رہتے ہیں ترے خیال میں ہم

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 81
ماضی میں ہیں اب نہ حال میں ہم
رہتے ہیں ترے خیال میں ہم
فروا ہے کوئی خیال جیسے
یوں مست ہیں اپنے حال میں ہم
کھو بیٹھے ہیں اعتبار اپنا
آ آ کے جہاں کی چال میں ہم
آئے نہ ادھر غم زمانہ
بیٹھے ہیں ترے خیال میں ہم
دیتے ہیں کوئی جواب باقیؔ
کھوئے ہیں ابھی سوال میں ہم
باقی صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s