دل میں جب کوئی بات ہوتی ہے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 255
ہر نظر ایک گھات ہوتی ہے
دل میں جب کوئی بات ہوتی ہے
شمع بجھتی ہے، زلف کھلتی ہے
تب کہیں رات، رات ہوتی ہے
حسن سرشار، عشق وا رفتہ
کس سے ایسے میں بات ہوتی ہے
زیست لے بیٹھتی ہے اپنے گلے
غم سے جب کچھ نجات ہوتی ہے
بے رخی، اختلاف، روکھا پن
یوں بھی کیا کوئی بات ہوتی ہے
زخم کھا کر نظر جب اٹھتی ہے
حاصل کائنات ہوتی ہے
غم کا احساس تک نہیں باقیؔ
یوں بھی غم سے نجات ہوتی ہے
باقی صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s