دل بیٹھا جاتاہے سنبھالو

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 19
ٹھہرو ٹھہرو قافلے والو
دل بیٹھا جاتاہے سنبھالو
اور ستم کہتے ہیں کس کو
تم ہی کہہ دو دیکھنے والو
کچھ دن اور نہ ان سے الجھو
کچھ دن اور قضا کو ٹالو
افسانہ بھی سنتے جاؤ
دل کی بات بتانے والو
دنیا دیکھ نہ لے اے باقیؔ
دل میں امیدوں کو چھپا لو
باقی صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s