دشت کیسا پڑا ہے رستے میں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 116
وقت چپ سا کھڑا ہے رستے میں
دشت کیسا پڑا ہے رستے میں
آپ کا غم ہو یا زمانے کا
کوس جو ہے کڑا ہے رستے میں
سنگ ریزوں کو دیکھنے والو
دل سا ہیرا پڑا ہے رستے میں
کوئی کانٹا ہے یا کوئی گل ہے
دل کا دامن اڑا ہے رستے میں
اس طرح چپ کھڑے ہیں ہم جیسے
ایک پتھر گڑا ہے رستے میں
دل اگر بجھ گیا تو پھر باقیؔ
ایک کانٹا بڑا ہے رستے میں
باقی صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s