درخت سے ہمیں سایہ جدا نظر آیا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 66
تری نگاہ کا انداز کیا نظر آیا
درخت سے ہمیں سایہ جدا نظر آیا
بہت قریب سے آواز ایک آئی تھی
مگر چلے تو بڑا فاصلہ نظر آیا
یہ راستے کی لکیریں بھی گم نہ ہو جائیں
وہ جھاڑیوں کا نیا سلسلہ نظر آیا
یہ روشنی کی کرن ہے کہ آگ کا شعلہ
ہر ایک گھر مجھے جلتا ہوا نظر آیا
کلی کلی کی صدا گونجنے لگی دل میں
جہاں بھی کوئی چمن آشنا نظر آیا
بتاؤ کس لئے پتھر اٹھائے پھرتے ہو
کہو تو آئنہ خانے میں کیا نظر آیا
یہ دوپہر یہ پگھلتی ہوئی سڑک باقیؔ
ہر ایک شخص پھسلتا ہوا نظر آیا
باقی صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s