خود سے ہم واسطہ کم رکھتے ہیں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 127
جب سے دل میں ترا غم رکھتے ہیں
خود سے ہم واسطہ کم رکھتے ہیں
شک نہ کیجے مری خاموشی پر
لوگ سو طرح کے غم رکھتے ہیں
یوں بھی ملتی ہیں وہ نظریں جیسے
اک تعلق سا بہم رکھتے ہیں
کرتے پھرتے ہیں تمہاری باتیں
یوں بھی ہم اپنا بھرم رکھتے ہیں
ہم یہ کیجے نہ بھروسہ باقیؔ
ہم خیال اپنا بھی کم رکھتے ہیں
باقی صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s