جینے کے لئے ترس رہے ہیں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 133
ہم کس کے جہاں میں بس رہے ہیں
جینے کے لئے ترس رہے ہیں
گلشن میں انہیں بھی ہم نہیں یاد
جو ساتھ قفس قفس رہے ہیں
آئی ترے قہقہوں کی آواز
یہ پھول کہاں برس رہے ہیں
کس رنگ میں زندگی کو ڈھالیں
ہر رنگ مں ی آپ بس رہے ہیں
ہم سے بھی زمانہ آشنا ہے
ہم بھی ترے ہم نفس رہے ہیں
شبنم کی طرح اڑے ہیں باقیؔ
بادل کی طرح برس رہے ہیں
باقی صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s