جہاں نے میکدوں کے نام بدلے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 213
نہ مے بدلی نہ مے کے جام بدلے
جہاں نے میکدوں کے نام بدلے
وہی گلشن، وہی گلشن کے انداز
فقط صیاد بدلے، دام بدلے
جو ہم بدلے تو کوئی بھی نہ بدلا
جو تم بدلے تو صبح و شام بدلے
بدلنے کو ہیں میخواروں کی نظریں
بلا سے رُخ نہ دور جام بدلے
فضائے زیست باقیؔ خاک بدلی
نہ دل بدلا نہ دل کے کام بدلے
باقی صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s