جام ہے، مے ہے، رسن ہے، دار ہے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 235
اہل دل فرمائیں کیا درکار ہے
جام ہے، مے ہے، رسن ہے، دار ہے
خار کو کوئی کلی کہتا نہیں
نرم ہو،نازک ہو پھر بھی خار ہے
کچھ کہیں تو آپ ہوتے ہیں خفا
چپ رہیں تو زندگی دشوار ہے
لوریاں دیتی رہی دنیا بہت
پھر بھی جو بیدار تھا، بیدار ہے
کاش ہوتے اتنے اچھے آپ بھی
جتنی اچھی آپ کی گفتار ہے
کل کہاں تھی آج ہے باقیؔ کہاں
زندگی کتنی سبک رفتار ہے
باقی صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s