تو کہاں آ کے عناں گیر ہوا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 40
مرحلہ دل کا نہ تسخیر ہوا
تو کہاں آ کے عناں گیر ہوا
کام دنیا کا ہے تیر اندازی
ہم ہوئے یا کوئی نخچیر ہوا
سنگ بنیاد ہیں ہم اس گھر کا
جو کسی طرح نہ تعمیر ہوا
سفر شوق کا حاصل معلوم
راستہ پاؤں کی زنجیر ہوا
عمر بھر جس کی شکایت کی ہے
دل اسی آگ سے اکسیر ہوا
کس سے پوچھیں کہ وہ انداز نظر
کب تبسم ہوا کب تیر ہوا
کون اب داد سخن دے باقیؔ
جس نے دو شعر کہے میر ہوا
باقی صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s