تم بھی ذرا زلفوں کو سنوارو ہم بھی ذرا آرام کریں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 110
سورج ڈوب رہا ہے آؤ طوف بادہ و جام کریں
تم بھی ذرا زلفوں کو سنوارو ہم بھی ذرا آرام کریں
کس کا وعدہ کیسی تمنا، اٹھ اے دل آرام کریں
ان کو بات کا پاس نہیں تو ہم کیوں نیند حرام کریں
محفل ہستی کے سازوں پر کیوں خاموشی طاری ہے
آؤ کوئی نغمہ چھیڑیں، لاؤ کوئی کام کریں
ایک سے ایک ملا ہے بڑھ کر جس کے بھی نزدیک گئے
کس کس سے ہم الجھیں باقیؔ کس کس کو بدنام کریں
باقی صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s