تصویر کا رُخ ایک ہی رہتا ہے سامنے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 225
اپنی نظر کے دام سے نکلے نہ ہم کہیں
تصویر کا رُخ ایک ہی رہتا ہے سامنے
سر پھوڑتا کہ دل کا سکوں دیکھتا کوئی
دیوار سامنے کبھی سایہ ہے سامنے
ہے موت کا خیال بھی کس درجہ دلخراش
اور صورت حیات بھی کیا کیا ہے سامنے
یہ خار ہے کہ تیرِ غم زندگی کوئی
یہ پھول ہے کہ اپنی تمنا ہے سامنے
باقی صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s