بہت غم کے ماروں نے پہلو بچائے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 28
جو دنیا کے الزام آنے تھے، آئے
بہت غم کے ماروں نے پہلو بچائے
کسی نے تمہیں آج کیا کہہ دیا ہے
نظر آ رہے ہو پرائے پرائے
بہت واقعے پیش آئے تھے لیکن
نہ تم نے سنے کچھ نہ ہم نے سنائے
ملاقات کی کونسی ہے یہ صورت
نہ ہم مسکرائے، نہ تم مسکرائے
فسانہ سنائے چلا جا رہا ہوں
یقیں سننے والوں کو آئے نہ آئے
زمانے کی آنکھوں میں نور آ گیا ہے
کوئی اپنے دامن کے دھبے چھپائے
نہ دنیا نے تھاما نہ تو نے سنبھالا
کہاں آ کے میرے قدم ڈگمگائے
الجھتے ہیں ہر گام پر خار باقیؔ
کہاں تک کوئی اپنا دامن بچائے
باقی صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s