بجھ بجھ کے چراغ جل رہے ہیں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 131
اشکوں میں خیال ڈھل رہے ہیں
بجھ بجھ کے چراغ جل رہے ہیں
آداب چمن بھی سیکھ لیں گے
زنداں سے ابھی نکل رہے ہیں
پھولوں کو شرار کہنے والو
کانٹوں پہ بھی لوگ چل رہے ہیں
ہے جھوٹ کہ سچ کسے خبر ہے
سنتے ہیں کہ ہم سنبھل رہے ہیں
آرام کریں کہاں مسافر
سائے بھی شرر اگل رہے ہیں
حالات سے بے نیاز ہو کر
حالات کا رُخ بدل رہے ہیں
کہتے ہیں اسے نصیب باقیؔ
پانی سے چراغ جل رہے ہیں
باقی صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s