اے ہستی کے خام سہارو

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 18
کچھ تو ڈوبے دل کو ابھارو
اے ہستی کے خام سہارو
دنیا دارو! اتنی نفرت!
اتنی نفرت! دنیا دارو!
میرا منہ کیا دیکھ رہے ہو
کوئی بات کرو غم خوارو!
موجیں اور پابندیٔ دریا
ہٹ جاؤ رستے سے کنارو!
کوئی جھٹک دے دامن باقیؔ
اتنے بھی پاؤں نہ پسارو!
باقی صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s