ایسے بھی ہیں کچھ زخم کہ بھرنے نہیں پاتے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 196
ہم تیری محبت سے گزرنے نہیں پاتے
ایسے بھی ہیں کچھ زخم کہ بھرنے نہیں پاتے
ہر موج تمنا ہے سراب یم ہستی
ہم پیاس کے صحرا سے ابھرنے نہیں پاتے
وہ دھوپ کہ دیوار سر راہ کھڑی ہے
سائے بھی درختوں سے اترنے نہیں پاتے
اس طرح جکڑ رکھا ہے احساس وفا نے
ہم ٹوٹ تو جاتے ہیں بکھرنے نہیں پاتے
آ کر بھی صبا باغ میں لہرا نہیں سکتی
کھل کر بھی کئی پھول نکھرنے نہیں پاتے
وہ بھیڑ ہے اک گام بھی ہم چل نہیں سکتے
وہ شور ہے ہم بات بھی کرنے نہیں پاتے
ہر موج قدم دل سے گزر جاتی ہے باقیؔ
وہ تیز ہوا ہے کہ ٹھہرنے نہیں پاتے
باقی صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s