اڑتی ہوئی گرد پر نطر ہے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 238
کیسا رستہ ہے کیا سفر ہے
اڑتی ہوئی گرد پر نطر ہے
ڈسنے لگی فاختہ کی آواز
کتنی سنسان دوپہر ہے
آرام کریں کہ راستہ لیں
وہ سامنے اک گھنا شجر ہے
خود سے ملتے تھے جس جگہ ہم
وہ گوشۂ عافیت کدھر ہے
ایسے گھر کی بہار معلوم
جس کی بنیاد آگ پر ہے
باقی صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s