اپنی زنجیر ہلا دیتے ہیں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 129
یوں بھی ہونے کا پتا دیتے ہیں
اپنی زنجیر ہلا دیتے ہیں
پہلے ہر بات پہ ہم سوچتے تھے
اب فقط ہاتھ اٹّھا دیتے ہیں
قافلہ آج کہاں ٹھہرے گا
کیا خبر آبلہ پا دیتے ہیں
بعض اوقات ہوا کے جھونکے
لو چراغوں کی بڑھا دیتے ہیں
دل میں جب بات نہیں رہ سکتی
کسی پتھر کو سنا دیتے ہیں
ایک دیوار اٹھانے کے لئے
ایک دیوار گرا دیتے ہیں
سوچتے ہیں سر ساحل باقیؔ
یہ سمندر ہمیں کیا دیتے ہیں
باقی صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s