ان تک تو ساتھ گردش شام و سحر گئی

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 157
آئی نہ پھر نظر کہیں جانے کدھر گئی
ان تک تو ساتھ گردش شام و سحر گئی
کچھ اتنا بے ثبات تھا ہر جلوہ حیات
لوٹ آئی زخم کھا کے جدھر بھی نظر گئی
آ دیکھ مجھ سے روٹھنے والے ترے بغیر
دن بھی گزر گیا، شب غم بھی گزر گئی
باقیؔ بس ایک دل کے سنبھلنے کی دیر تھی
ہر چیز اپنی اپنی جگہ پر ٹھہر گئی
تیرے بغیر رنگ نہ آیا بہار میں
اک اک کلی کے پاس نسیم سحر گئی
نادم ہے اپنے اپنے قرینے پہ ہر نظر
دنیا لہو اچھال کے کتنی نکھر گئی
شبنم ہو، کہکشاں ہو ستارے ہوں پھول ہوں
جو شے تمہارے سامنے آئی نکھر گئی
باقی صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s