انے نقش کف پا کیا دیکھیں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 119
زندگی دل کا سکوں چاہتی ہے
رونق شہر سبا کیا دیکھیں
کھوکھلے قہقہے پھیکی باتیں
زیست کو زیست نما کیا دیکھیں
زخم آواز ہی آئینہ ہے
صورت نغمہ سرا کیا دیکھیں
قہر دریا کا تقاضا معلوم
ہم حبابوں کے سوا کیا دیکھیں
سانس کلیوں کا رکا جاتا ہے
شوخی موج صبا کیا دیکھیں
دل ہے دیوار، نظر ہے پردہ
دیکھنے والے بھلا کیا دیکھیں
ایک عالم ہے غبار آلودہ
جانے والے کی ادا کیا دیکھیں
زندگی بھاگ رہی ہے باقیؔ
شوق کو آبلہ پا کیا دیکھیں
باقی صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s