باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 134
اخلاص کو مجبور فغاں دیکھ رہے ہیں
انداز جہان گزراں دیکھ رہے ہیں
ہم زیست کی راہوں میں دئیے غم کے جلا کر
گزرے ہوئے لمحوں کے نشاں دیکھ رہے ہیں
کیا جرات بے باک ہے یہ دل، یہ محبت
قطرے میں سمندر کو نہاں دیکھ رہے ہیں
کیا دور سے اک ساغر گل رنگ دکھا کر
وہ کش مکش بادہ کشاں دیکھ رہے ہیں
حالات نے اس طرح جکڑ رکھا ہے باقیؔ
جو کچھ بھی دکھاتا ہے جہاں دیکھ رہے ہیں
باقی صدیقی