اس خانماں خراب کو گھر کی تلاش ہے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 250
میری فغاں کو باب اثر کی تلاش ہے
اس خانماں خراب کو گھر کی تلاش ہے
شبنم! تیرے ان آئنہ خانوں کی خیر ہو
میرے چمن کو برق و شرر کی تلاش ہے
بیٹھا ہوا ہوں غیر کے در پر شکستہ پا
کس مہ سے میں کہوں ترے در کی تلاش ہے
جس کی ضیا ہو دسترس شام غم سے دور
دنیا کو ایک ایسی سحر کی تلاش ہے
باقیؔ ہے ٹوٹنے کو اب امید کا طلسم
اک آخری فریب نظر کی تلاش ہے
باقی صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s