احساس تلملا اٹھا، دل ڈولنے لگا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 54
دشت جنوں میں غم کا جرس بولنے لگا
احساس تلملا اٹھا، دل ڈولنے لگا
کہتے ہیں اس کو پاس تعلق مرے خلاف
بولے وہ کیا کہ سارا جہاں بولنے لگا
اے جذب شوق تیرے اسیروں کی خیر ہو
صیاد جانے کس لئے پر کھولنے لگا
باقیؔ جہاں میں عشق کا دعویٰ ہی عیب ہے
ہر حادثہ نظر میں مجھے تولنے لگا
باقی صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s