اب کھٹکتی ہے نظر آنکھوں میں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 115
کر لیا آپ نے گھر آنکھوں میں
اب کھٹکتی ہے نظر آنکھوں میں
خواب بن بن کے بکھرتا ہے جہاں
شام سے تابہ سحر آنکھوں میں
صبح کی فکر میں رہنے والے
رات کرتے ہیں بسر آنکھوں میں
کھل گیا راز گلستاں دل پر
چبھ رہے ہیں گل تر آنکھوں میں
روز اک طرفہ تماشا بن کر
وقت کرتا ہے سفر آنکھوں میں
بات چھیڑی تو ہے ان کی باقیؔ
آ گئے اشک اگر آنکھوں میں
باقی صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s