اب تکلیف کرو نہ آے کا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 44
چل گیا ہے فسوں زمانے کا
اب تکلف کرو نہ آنے کا
دیکھ کر ہم کو بے نیاز حیات
حوصلہ بڑھ گیا زمانے کا
وقت ہو تو حضور سن لیجے
آخری باب ہے فسانے کا
اک ستارہ بھی آسماں پہ نہیں
کیا کوئی وقت ہے یہ جانے کا
ڈوبتا جا رہا ہے دل باقیؔ
وقت یہ تھا فریب کھانے کا
باقی صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s