آؤ اس شوخ کا قصیدہ کہیں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 147
بات دیدہ کہیں شنیدہ کہیں
آؤ اس شوخ کا قصیدہ کہیں
دل کا قصہ طویل ہوتا ہے
اس کے اوصاف چیدہ چیدہ کہیں
اس کی ہر اک ادائے رنگیں کو
زندگی پر خط کشیدہ کہیں
اور ہوتی ہے رسم شہر خیال
کیوں کسی کو ستم رسیدہ کہیں
کب وہ دشت وفا میں آیا تھا
کیوں اسے آہوئے رمیدہ کہیں
اس کی ہر بات کو کہیں تلوار
اپنے سر کو سر بریدہ کہیں
اس کے شعلوں کو دیں صبا کا نام
اپنے ہر رنگ کو پریدہ کہیں
جام کو جام جم سے دیں نسبت
اپنے خوں کو مئے چکیدہ کہیں
غیر سے دوستی مبارک ہو
اور اب کیا وفا گزیدہ کہیں
اب وہ رنگ جہاں نہیں باقیؔ
کس سے حال دل تپیدہ کہیں
باقی صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s