چن پرتے کد، امبروں ڈَھل کے

ماجد صدیقی (پنجابی کلام) ۔ غزل نمبر 89
کی ہویا، توُں نہ آئیوں وَل کے
چن پرتے کد، امبروں ڈَھل کے
کل دے دعویدار، عشقے دے
بہہ گئے اج، سواہ منہ مل کے
بے سمتے سہئی، ٹُرپئے آں تے
ہن کی مڑنا، دُور نکل کے
بِڑکاں تے، کن لاندا رہناں
واواں ہتھ، سنہیوڑے گھل کے
جیون پندھ سی، دُوں قدماں دا
کٹیا تُدھ، پر نال نہ چل کے
ماجدُ ایہہ گل، جانے کیہڑا
اج کی اے، کی ہوسی بھل کے
ماجد صدیقی (پنجابی کلام)

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s