فیض احمد فیض

زنداں نامہ

زنداں نامہ از فیض احمد فیض

  1. شکر ہے زندگی تباہ نہ کی
  2. ہم لوگ سرخرو ہیں کہ منزل سے آئے ہیں
  3. اے حبیبِ عنبر دست!
  4. سزا، خطائے نظر سے پہلے، عتاب جرمِ سخن سے پہلے
  5. دل تھا کہ پھر بہل گیا، جاں تھی کہ پھر سنبھل گئی
  6. شبِ سیہ سے طلب حسنِ یار کرتے رہے
  7. ملاقات
  8. وہ رات جو کہ ترے گیسوؤں کی رات نہیں
  9. دل کی حالت سنبھل چلی ہے
  10. واسوخت
  11. شوخیِ رنگِ گلستاں ہے وہی
  12. صد شکر کہ اپنی راتوں میں اب ہجر کی کوئی رات نہیں
  13. دشنام تو نہیں ہے، یہ اکرام ہی تو ہے
  14. اے روشنیوں‌کے شہر
  15. چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے
  16. ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے
  17. منتِ‌این و آں تو چھوٹے گی
  18. ہم بادہ کشوں کے حصے کی، اب جام میں کمتر جاتی ہے
  19. دریچہ
  20. درد آئے گا دبے پاؤں
  21. رنگِ رخسار کی پھوہار گری
  22. Africa Come Back
  23. گل کھلے جاتے ہیں وہ سایہء در تو دیکھو
  24. یہ فصل امیدوں کی ہمدم
  25. بنیاد کچھ تو ہو
  26. کوئی عاشق کسی محبوبہ سے
  27. کوئی کرتا ہی نہیں ضبط کی تاکید اب کے
  28. کوچہء یار سے بے نیلِ‌ مرام آتا ہے
  29. ہر اک صدا میں ترے حرفِ‌ لطف کا آہنگ
  30. تمہاری یاد سے دل ہمکلام رہتا ہے
  31. تو صبح جھوم کے گلزار ہو گئی یکسر
  32. کیا خبر آج خراماں سرِ‌گلزار ہے کون
  33. نہ شب کو دن سے شکایت نہ دن کو شب سے ہے
  34. آگ سلگاو آبگینوں میں

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s