مجید امجد کی غزلیں

غیر مردّف

یہ صراحی میں پھول نرگس کا

اس نے کل مڑ کے مجھ سے دل مانگا

وقت کی لامنتہی زنجیر کی کڑیاں تمام

ہم لب سے لگا کر جام، ہوئے بدنام، بڑے بدنام

روح میں ابھرے، پھاند کے سورج کے سیال سمندر کو

اک یہ ملک، اور رزق اور گیت اور خوشیاں

آؤ، آج ان مست ہواؤں میں بہہ جائیں

دور ایک بانسری پہ یہ دھن: ’پھر کب آؤ گے؟‘

 

ا

کوئی رمزِ خرام، موجِ صبا

میں عمر اپنے لیے بھی تو کچھ بچا رکھتا

یہاں ہر قدم پر ہے ٹھوکر سنبھل جا

میں ان سے دور، وہ میرے قریب، کیا کہنا

کوئی نہیں جہاں میں کوئی نہیں کسی کا

اب آکاش سے پورب کا چرواہا ریوڑ ہانک چکا

سب کچھ بس اک نگاہِ کرم کا بہانہ تھا

بکھرا ہوا ہواؤں میں سایہ تمہارا تھا

کیا دن تھے، جب خیالِ تمنا لباس تھا

تمہارا ذکر رہا یا مرا فسانہ رہا

انجمن انجمن رہا تنہا

 

ر

اک تو کہ ہے طلسمِ شب و روز کا شکار

سینے پہ ایک درد کی سل رکھ کے بات کر

 

ڑ

مطرب، کوئی ترانہ بیادِ بہار چھیڑ

 

گ

آنسو تپتی ریت میں بو گئے کیا کیا لوگ

 

ل

اپنے طغیان کی سزا یہ خیال

اب تو اس مٹی کے ہر ذی روح ذرّے میں بھی ہے تصویرِ دل

پون چلے اور ڈولے دل

حسیں گلاب کے پھول، ارغواں گلاب کے پھول

 

م

جو تم سن لو، تمہاری داستاں ہم

بیٹھے ہیں مہر و ماہ کی شمعیں بجھا کے ہم

 

 

ں

جہاں اندر جہاں ہے اور میں ہوں

روح کی مدہوش بیداری کا ساماں ہو گئیں

دم گھٹ رہا ہے سایۂ ابرِ بہار میں

اے موجۂ ہوا، تہہِ زنجیر کون ہیں

کوئی بھی اب شریکِ غمِ آرزو نہیں

و

ختن ختن میں بہ انبوہِ صد غزالہ پھرو

ی

وہ خوش دلی جو دلوں کو دلوں سے جوڑ گئی

وہ رات گئی، وہ بات گئی، وہ ریت گئی، رت بیت گئی

اس برتاؤ میں ہے سب برتا دنیا کی

تجھ پر تری نگاہ سے چھپ کر نگاہ کی

ذرا سنا کہ ہے کچھ ذکر جس میں تیرا بھی

ہے میرے ساتھ تو اب ختم قرنِ آخر بھی

سائرن بھی، اذان بھی، ہم بھی

یہ موج تو تہہِ دریا کبھی رہی بھی نہ تھی

تج دو کہ برت لو، دل تو یہی، چن لو کہ گنوا دو، دن تو یہی

 

ے

سنورتے گئے، دن گزرتے گئے

وہ سب سمے جو ترے دھیان سے نہیں گزرے

کب آئیں گے وہ من مانے زمانے

کیے میں نے ہر اک ایواں کی چوکھٹ تھام کے شکوے

ہونٹوں کی لو لطیف حجابوں سے چھن پڑے

خود ہی لڑے بھنور سے! کیوں زحمت کی؟ ہم جو بیٹھے تھے

تری داستاں بھی عظیم ہے، مری داستاں بھی عظیم ہے

نہ اب وہ ان کی بےرخی نہ اب وہ التفات ہے

ترے لہو کی تڑپتی ہوئی حرارت ہے

کانٹوں سے الجھ کر جینا ہے، پھولوں سے لپٹ کر مرنا ہے

اک آنسو کی بوند میں دیکھو، دنیا دنیا، عالم عالم جل تھل ہے

کس قیامت کی رات گزری ہے

خرید لوں میں یہ نقلی دوا، جو تو چاہے

یہ ایک صبح تو ہے سیرِ بوستاں کے لیے

اک جیون ہار ڈر سا ہے ترے دل کے لیے

پھر کسی کو چاہنے کی آرزو میں گھومیے

صحّت کا ایک پہلو مریضانہ چاہیے

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s